نیا پاکستان عظیم تر پاکستان

نیا پاکستان عظیم تر پاکستان

اگست 20, 2014

جب دیوتا بونے بنتے ہیں


سیاسی بصیرت اور قائدانہ بالغ نظری اگر کسی چڑیا کا نام تھا تو وہ اب تک تحریکِ انصاف کے گھونسلے سے پرواز کر چکی ہے ۔ سول نافرمانی اوراسمبلیوں سے استعفے کے بعد ریڈ زون کی طرف مارچ کرنے کا فیصلہ تحریکِ انصاف کی قیادت سے زیادہ اس مارچ میں آئے ہوئے لاہور کے ماجھے گامے اور پشاور کے گل خان کر رہے ہیں۔ جب قیادت اپنے کارکنوں کے ہاتھوں یرغما ل بن جائے اور سڑک چھاپ کارکن فیصلوں پر اثر انداز ہونے لگیں تو پھر سیاست پر فاتح پڑھ لینی چاہیے۔ عمران خان اپنی شعلہ بیانی کے زعم میں نواز شریف اور ان کی پارٹی کے خلاف جنوں بھوتوں کے جو قصے اپنے جنونیوں کو سناتے رہے ہیں اب انہوں نے ثمر دینا شروع کر دیے ہیں۔ اٹھارہ سال کی شبانہ روز تگ و دو سےعمران خان نے اپنا جو بت اپنے ماننے والوں کے ذہنوں میں تراشا تھااب اس کی پوجا شروع ہوگئی ہے اور پجاری ہر قربانی دینے کے لیے بظاہر تیار بیٹھے ہیں۔ آزادی مارچ میں بھڑکیلی تقریروں سے دیوتا عمران خان کا قد شاید کچھ اور بڑھ گیا ہو لیکن سیاست دان عمران خان بہت بونہ لگنے لگا ہے۔

کچھ لوگو ں کا یہ خیال کہ مارچ میں دس لاکھ لوگوں کو لانے میں ناکامی کی خفت کا بدلہ عمران خان پاکستان کی مظلوم و مقہور جمہوریت سے لینا چاہتے ہیں اس وقت درست دکھائی دینے لگتا ہے جب عمران اور پی ٹی آئی کی قیادت واشگاف الفاظ میں مارشل لا لگنے کے خدشے کا اعتراف کر تی دکھائی دیتی ہے ۔ نواز شریف کی ہٹ دھرمی پر اسے کوسنے دیتے ہوئے تحریکِ انصاف اپنی انا پرستی سے صرف نذر کر جاتی ہے اور ممکنہ مارشل لا کا سارا ثواب نون لیگ کی جھولی میں ڈالتی دکھائی دے رہی ہے۔یوں لگ رہا ہے کہ عمران مارچ کی بند گلی میں پھنسنے کے بعد اب بے نیل و مرام واپس جانے کی شرمندگی برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے ۔ نہ ڈرنے والا نہ جھکنے والا لیڈر بھلا اپنے مطالبے سے الٹے پیروں واپس آنے کی خفت کیسے ہضم کر سکتا ہے ۔ خود کو ہرکولیس اور سپر مین بنا کر پیش کرنے میں یہی مسئلہ ہے کہ پھر لیڈر عام انسان نہیں بن سکتا۔ وہ عام انسان جو خون خرابے سے بچنے کے لیے اپنی انا کی قربانی دینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا۔عمران خان اپنے خیالی جنت کے حصول میں اس وقت ایک ایسے راستے کی طرف چل پڑا ہے جہاں وہ اپنے کارکنوں کے خون سے اقتدار کی سیڑھی کو سینچنا چاہتا ہے۔ خود عمران خان اور ان کی جماعت خیبر پختونخواہ کے تجربے سے یہ اچھی طرح سمجھ چکی ہے کہ پاکستان کے گنجلک مسائل ایک سال میں اللہ دین کا جن بھی حل نہیں کر سکتااس لیے نون لیگ کے خلاف صرف ایک سال بعد یورش کا تعلق انتخابی دھاندلی یاگڈ گورننس سے کسی طرح بھی نہیں ہے اس جہاد کے تانے بانے کہیں اور جا کے ملتے ہیں۔

اگست 19, 2014

کیا مارچر مارشل لا کے منتظر ہیں

اسلام آباد میں تحریکِ انصاف اور عوامی تحریک کی طرف سے سجائی گئی خوابوں کی جنت کو دو دن بیت چکے ہیں ۔جنتیوں کے جنون اور عقیدت کے پیمانے ابھی لبریز ہیں اورحکومت کو ابھی کچھ اور دن شاید انقلابی لیڈروں کی بے معنی للکاریں برداشت کرنی پڑیں۔ دنیا بھر کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے پیروکاراپنے اپنے لیڈروں کو وہ مسیحا سمجھتے ہیں جو ان کے سارے دکھوں کا مداوا کر سکتا ہے ۔ دنیا بھر کی جماعتوں کے سیاسی ورکر اپنے لیڈر وں کے لیے جان نچھاور کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں ۔ وہ ان کے اشاروں پر ریلیاں نکالتے، مارچ کرتے اور دھرنے دیتے ہیں۔ اپنے لیڈروں کے لیے یہ ہر طوفان سے ٹکراتے ہیں، مصائب و مسائل کی آندھیوں کامقابلہ کرتے ہیں اورانہونی کو ہونی میں تبدیل کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ سیاسی ورکروں کا جنون وہ ایندھن ہے جس سے سیاست کی گاڑی چلتی ہے ۔ جہاں یہ ایندھن ٹھنڈا پڑتا ہے سیاسی جماعتیں اور ان کے لیڈر عرش سے فرش پر آ گرتے ہیں۔ فرش نشیں ہونا سیاسی لیڈروں کو چونکہ اتنا پسند نہیں ہوتا اس لیے یہ اپنے ورکروں کے جنون کو جھوٹے سچے نعروں سے ہوا دیتے رہتے ہیں ۔
پاکستان کے سیاسی ورکر دنیا بھر کے سیاسی ورکروں کی جملہ خصوصیات کے ساتھ ساتھ کچھ ایسی منفرد خاصیتیں بھی رکھتے ہیں جو دنیا کے کسی اور گوشے میں نہیں پائی جاتیں ۔ہمارے سیاسی ورکر اپنے لیڈرو ں میں پیغمبرانہ خصوصیات پر بھی ایمان رکھتے ہیں ۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا لیڈر ہر خطاؤں سے مبرا ہے ۔ جھوٹ ،منافقت ، موقع پرستی اور ابن الوقتی سے کوسوں دور اور ذاتی منفعتوں کی آلائشوں سے یکسر پاک ہے۔ یہ سمجھتے ہیں ان کا لیڈر عام انسانوں سے بلند اللہ کا وہ ولی ہے جس سے غلطی سر زد ہونے کا ایمان رکھنا سیاسی کفر ہے ۔ یہ اپنے لیڈر کے مونہہ سے نکلنے والے ہر لفظ کو وحی سمجھتے ہیں اور اس سے اختلاف رکھنے والے سے مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں ۔ پاکستان کی اڑسٹھ سالہ تاریخ ایسے الوہی لیڈروں اور ان کے فدائی حشیشین سے بھری ہوئی ہے ا وراگر بہ نظر غائر دیکھا جائے تو پاکستان کی ’’ ہوش ربا ترقی‘‘ کا راز بھی یہ لیڈر اور ان کے سیاسی ورکر ہی ہیں۔

اگست 13, 2014

مارچوں کا موسم اور مشرف کا بھوت

تیسری دنیا میں بسنے والی انسان نما مخلوق کے بہت سے مشترکہ دکھوں میں سے ایک دکھ یہ بھی ہے کہ یہاں آمر اقتدار سے دھتکارے جانے کے باوجود طاقت ور رہتے ہیں اور عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے کے باوجودسوکھے پتوں کی طرح لرزتے رہتے ہیں۔ مشرف کو اقتدار کے کوچے سے بے آبرو ہو کر نکلے چھ سال ہونے کو آئے ہیں لیکن ہماری سیاسی جماعتوں کی ساری کوششوں کا محور آج بھی مشرف کو بچانا یا اسے لٹکانا ہے۔ نواز شریف بھاری اکثریت لے کر حکومت میں آئے لیکن صرف ایک سال بعد ہی ان کی حکومت پر کپکپی طاری ہے ۔ انقلابوں اور آزادی مارچوں میں گھری ہوئی پاکستان کی ناتواں جمہوریت ایک دفعہ پھر کسی متوقع گینگ ریپ کا شکار ہونے کے خیال سے لرزہ بر اندام ہے اور تیسری دنیا کی انسان نما مخلوق زندہ باد ،مردہ باد ،آوے ہی آوے اور جاوے ہی جاوے کے نعرے لگانے میں حسب معمول مست ہے۔
اس امر کو سمجھنے کے لیے افلاطون ہونے کی ضرورت نہیں ہے کہ طاہر القادری صاحب کے انقلابی اور عمران خان کے آزادی مارچ نے پاکستان میں جس سیاسی عدم استحکام کو جنم دیا ہے اس کا فائدہ ان انقلابیوں کو ہو نہ ہو سابقہ آمر پرویز مشرف کوضرور ہوگا۔ بہت سے ذہنوں میں اس سوال نے جنم لینا شروع کر دیا ہے کہ کہیں آزادی مارچ مشرف کو آزادی کا پروانہ تھموانے کے لیے تو نہیں رچایا جا رہا؟ کہیں انقلاب کی ساری تان اس انتشار پر تو نہیں ٹوٹے گی جس کا فائدہ اٹھا کر مشرف سارے گناہوں سے دھل دھلا کر پردیس سدھار جائے گا؟ کہیں وہ جن کے ہاتھ میں اصل اقتدار کی لاٹھی ہے اپنے پیٹی بھائی کو بچانے کے لیے انقلابیوں اور نئے پاکستان والوں کو اپنی کئی دہائیوں سے آزمودہ ٹکٹکی پر تو نہیں نچا رہے ؟ سوالوں کا اژدحام ہے اور عام پاکستانی حیران ہیں کہ کس پر ایمان لائے اور کس سے برا ء ت کا اظہار کرے ؟

اگست 09, 2014

ایک ناقابلِ فخر ورثہ

ترقی کے آسمان پر ہلکورے لیتا مغرب ہو یا پسماندگی کے گٹر میں کسمساتا مشرق توہم پرستی نوعِ انسانی کا وہ مشترکہ دائمی مرض ہے جسے علم و آگہی کی صدیوں پر پھیلی جدوجہد بھی کمزور نہ کر سکی۔ وہم کی فیکڑیوں اور کارخانوں سے نکلنے والے وائرس کے سامنے دانش وروں کی دانش، سائنس دانوں کی سائنس، فلسفیوں کا فلسفہ اور عالموں کا علم سب ہیچ ہیں۔صدیوں سے وہم کی آندھیاں یقین کی کھیتیوں کو اجاڑتی ، دلیل کی فصیلوں کو مسمار کرتی اور منطق کے قلعوں کوڈھاتی رہی ہیں ۔نسلِ انسانی کے غاروں سے لے کر خلا تک کے سفر میں وہم نے اسے اپنا اسیر کیے رکھا ہے۔ مذاہب آسمانی جو انسانوں کو وہم کی وادیوں سے نکال کر حقیقت کی دنیا میں لا کھڑے کرنے کے لیے وجود میں آئے تھے وقت کی گرد نے ان کو ایسا مسخ کیا کہ یہ خود توہم پھیلانے کا سب سے بڑا ذریعہ بن گئے ۔ اب چار سو وہم کی حکمرانی ہے اور پاکستان کا نورا مصلی ہو یا امریکا کا نارمن ایڈورڈ ، ہندوستان کی جیراں مائی ہو یا برطانیہ کی جینا ولسن سب وہم کے جال میں گرفتار ہیں۔
توہم پرستی کاتازہ ترین مظاہرہ دنیا کے سب سے ترقی یافتہ ملک امریکامیں پیش آیا ۔امریکہ کے گلی کوچوں  میں آج کل ایک ایسی سیاہ پوش عورت کی پر اسراریت کے تذکرے ہیں جو پیادہ پا ایک ناتمام سفر پر نکلی ہوئی ہے۔ اپنے خیالوں میں گم دنیا و مافیہا سے بے پرواہ یہ عورت پچھلے کئی ہفتوں سے مسلسل عازمِ سفر ہے۔ اس عورت کی اس انوکھی یاترا کی طرف توجہ مبذول کروانے کا سہرا فیس بک پر بنائے گئے ایک پیج کو جاتا ہے جس نے امریکا کے توہم پرستوں کو ایک نئے موضع پر مغز ماری کا موقع فراہم کیا ہے۔ ’’پراسرار عورت کہاں ہے ‘‘نامی اس صفحے پر امریکی اس عورت کے سفر کی لمحہ بہ لمحہ لائیو کوریج کرتے ہوئے بڑے دلچسپ تبصرے کر رہے ہیں ۔ کسی کے خیال میں یہ کوئی بھٹکی ہوئی روح ہے جو بستی بستی پھر کر اپنے نامعلوم کرب کی تسکین کر رہی ہے، کوئی اس کو فرشتہ سمجھ رہا ہے جو انسانوں کو بہ زبانِ خامشی کوئی پیغا م دینا چاہ رہا ہے ، کسی کے نزدیک یہ کوئی بھوت ہے جو کسی کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا ہے، کچھ سیانے اسے خلائی مخلوق کا زمینی ورژن سمجھ رہے ہیں۔ ذرا زیادہ دور کی کوڑیا ں لانے والے اسے خدا کی ولی اور پیغمبر تک قرار دے رہے ہیں ۔ کچھ کم تر درجے کے توہم پرستوں کے نزدیک یہ کوئی مسیحا ہے جو بھٹکی انسانیت کو سیدھے راستے پر لانے کے لیے خود گاؤں گاؤں بھٹک رہا ہے۔ بہت سے جذباتی توہم پرست تو ابھی سے اس کے مرید ہو کر نہایت شدو مد سے ’’ہمیں سیاہ پوش عورت کے پیغام کو سمجھنا ہو گا‘‘کے نعرے لگا لگا کراس کے پیغام کو پھیلانے میں جی جان سے جت گئے ہیں اگر چہ اتنا انہیں خود بھی نہیں پتا کہ پیغام ہے کیا؟امریکی توہم پرستوں کی یہ معصومانہ ادا مجھے نہ جانے کیوں پاکستان کے بہت سے انقلابیوں سے ملتی جلتی لگتی ہے ! ہمارے انقلابی بھی ایک ایسے ہی مشکوک سفر پر گامزن مردِ پر اسرار کے پیغام کو پھیلانے میں مگن ہیں جس کے انوکھے سفر کا نہ کوئی سر ہے نہ پیر۔

اگست 02, 2014

دو لیڈر ایک کہانی

کارزارِ سیاست ہو یا کارِ عشق ہردو میدانوں کے جگر آزماؤں کو ملامتوں اور تہمتوں کے تیر کھانے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا پڑتا ہے اس لیے گالیاں کھا کے بھی بے مزہ نہ ہونے کی صفت ان کے اند ر بدر جہ اتم پائی جاتی  ہے ۔ ان میدانوں کے شاہ سوار دشنام کو انعام سمجھ کر سینے سے لگاتے ہیں کیوں کہ گالیاں ان کے لیے مفت کی ناموری کا سامان لے کر آتی ہیں۔ دنیا بھر کے سیاست دانوں کو اپنی سیاسی زندگی میں کبھی نہ کبھی تہمتوں کے اس جوہڑ سے گزرنا پڑتا ہے ۔بہت کم سیاستدان تدبر کی کاریگری سے اپنا دامن ان ملامتی آلائشوں سے بچا پاتے ہیں ۔ جدید مغربی سیاست مخالفین کو نیچا دکھانے کے لیے ہر نیچ
پن کو مباح سمجھتی ہے اس لیے سیاست دانوں کی ذاتی زندگی سے لے کر ان کی مجلسی زندگی تک کو تنقید کی سولی پر چڑھا کر پرکھا جاتا ہے ۔ سخت جان جانبر ہو جاتے ہیں جو ذرا کم ڈھیٹ ہوں رسوائیاں گلے میں لٹکا کر اس کوچے سے کنارہ کر جاتے ہیں ۔
مغرب کے آزاد منش معاشرے ہوں یا روایتوں کے پابند مشرقی معاشرے اپنے سیاسی لیڈروں سے کچھ ایسی الوہی صفات کی توقع رکھتے ہیں جو انسانوں کے اندر کم ہی پائی جاتی ہیں ۔ یہ خود ہر گناہ اور خطا کواپنے لیے جائز سمجھتے ہیں لیکن اپنے لیڈروں کو ہر قسم کی خطاؤں سے مبرا دیکھنا چاہتے ہیں۔ الیکشن مہم کے دوران خصوصا تہمتوں کا بازار خوب دہکتا ہے ۔ لیڈری کے خواہش مند امیدواروں کی زندگیوں کے ایسے ایسے خفیہ اور خفتہ گوشوں سے پردہ اٹھایا جاتا ہے کہ عام آدمی ایسی پردہ دری کے بعد کسی کو مونہہ دکھانے کے قابل نہ رہے لیکن لیڈری کے خواہش مند یہ امیدوار چونکہ عام لوگو ں سے بلند ہوتے ہیں اس لیے یہ مونہہ چھپانے کی بجائے اسی مونہہ کے اشتہا ر چھپوا کر گلی کوچوں میں چپکا دیتے ہیں اور پھر اسی مونہہ سے لوگوں سے گھر گھر جا کر ووٹ مانگتے ہیں۔ سیاست کے اس حمام میں چونکہ سارے ہی ننگے ہیں اس لیے کسی کو اپنا ننگا پن معیوب نہیں لگتا ۔ یہی مغربی سیاست کا اصول ہے اسی پر مغرب و مشرق کے جملہ سیاست دان عمل پیرا ہیں ۔