نیا پاکستان عظیم تر پاکستان

نیا پاکستان عظیم تر پاکستان
میڈیا لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
میڈیا لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

نومبر 11, 2014

احساس کی چڑیا اور میڈیا کی غلط فہمی

گذشتہ کچھ دنوں سے یہود و ہنود کے اشاروں پر چلنے والا ہمارا میڈیا تھر کی بھوک اور پیاس کی کہانیاں سنا سنا کر ہمارے حکمرانوں کو شرمندہ کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے ۔ یہ پہلی دفعہ نہیں ہے کہ میڈیا نے اس سازش کے ذریعے سندھ میں بہنے والی دودھ اور شہد کی نہروں میں پتھر پھینکنے کی کوشش کی ہو۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ میڈیا نے جمہوریت کی برکات سمیٹتے تھر کے باسیوں کے انجوائے منٹ میں پہلی دفعہ خلل ڈالا ہو۔ صرف ماضی قریب پر نظر ڈالیں تو قائم علی شاہ کے مثالی طرزِ حکومت سے پہلے ارباب غلام رحیم کے مشرف بہ پرویز دور میں بھی میڈیا ایسی گھناؤنی سازشیں کرتا نظر آتا ہے ۔میڈیا نہ آمریت کے جھولے میں چپکا بیٹھ سکا اور نہ ہی آج اسے جمہوری پینگ کے ہلکورے خاموش کر سکے ہیں ۔ تھر میں اگتی بھوک
کی فصلیں اور پیاس کے دریا اس کی سنسنی پھیلانے والی حس کی تسکین کے لیے وافر سامان مہیا کر ہے ہیں۔اس لیے اور کوئی بولے نہ بولے میڈیا تو بول رہا ہے ۔ 
لیکن اگر ہمارا میڈیا یہ سمجھتا ہے کہ سیاست کے نقار خانے میں اس کے تھر کے لیے کئے گئے واویلوں پر کوئی کان دھرے گا تو یہ اس کی سب سے بڑی غلط فہمی ہے ۔موجودہ قحط کی صورتِ حال سالِ گذشتہ سے جاری خشک سالی کا نتیجہ ہے ۔ پچھلے سال بھی میڈیا نے بہتیرا شور مچایا تھا کہ تھر میں بچے بھوک سے مر رہے ہیں اور امداد کے لیے بھجوائی گئی گندم کی بوریاں گوداموں میں پڑی پڑی سڑ رہی ہیں ۔ گزشتہ سال بھی میڈیا ہڈیوں کے ڈھانچوں کی صورت بنتے بچوں کی کہانیاں سنا سنا کر ہمارے حکمرانوں کے ضمیروں کو خواب خرگوش سے جگانے کی بھرپور کوشش کرتا رہا تھا لیکن سندھ کی حکمراں جماعت پیپلز پارٹی جمہوریت کے لیے دی گئی اپنی قربانیوں کے بوجھ تلے اتنی دبی ہوئی تھی کہ اس تک تھر کی بھوکی آواز نہ پہنچ سکی۔بدقسمتی سے آج بھی صورتِ حال جوں کی توں ہے اورہمارے حکمرانوں کے کانوں پر کسی جوں کے رینگنے کا دور دور تک کوئی امکان نظر نہیں آ رہا ۔۔ آج بھی تھر کے متاثرین کے لیے بھجوائی جانے والی گندم کی بوریوں سے مٹی نکل رہی ہے ۔آج بھی متاثرین کے لیے بھجوایا جانے والا پانی ان تک پہنچنے کی بجائے گوداموں میں ہچکولے کھا رہا ہے ۔ تھر کے صحرا میں بھوک اور پیاس سے بلکتے غریبوں کے لیے حکمراں جماعت کے دفتر میں جھوٹی تسلیوں کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ میڈیا لاکھ چیخے چلائے لیکن پیپلز پارٹی نے جمہوریت کی مضبوطی اور اسکے بقا کے لیے جو لازوال قربانیاں دی ہیں ان کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات کا امکاننظر نہیں آتاکہ اتنی بڑی جماعت چند سو لوگوں کے بھوک پیاس سے مرنے کے چھوٹے سے مسئلے پر ہڑبڑا اٹھے گی۔فی الحال پیپلز پارٹی کے روزنامچے میں راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے ۔

ستمبر 18, 2014

کیا ہم انقلاب کے دہانے پر بیٹھے ہیں؟

ہم انقلاب کے دہانے پر بیٹھے ہیں یا انتشار کی دلدل میں اترنے کی تیاری کر رہے ہیں؟ اس سوال کا جواب دھرنے کے حمایتی اور مخالفین اپنے اپنے بتوں کو سامنے رکھ کراپنے اپنے انداز سے دیتے ہیں۔ دھرنوں کے ذریعے پاکستان کو جنت بنانے والے انقلابی گانوں کی دھن میں خود کو انقلاب کے دھانے پر بیٹھے ہوئے محسوس کررہے ہیں جبکہ دھرنے کے مخالفین کواس میں شر اور شرارت کے علاوہ اور کچھ نظر نہیں آرہا۔ گرم توے پر بیٹھی حکومت کے مونہہ سے انتشار کے خدشات ایک معمول کی بات بن چکی ہے کہ وہ اپنا تخت بچانے کے لیے کسی بھی جھوٹی سچی منطق کا سہارا لے سکتی ہے لیکن اب عمران خان نے بھی خانہ جنگی کی بات کر کے سب کو چونکا دیاہے۔ یہ واضح نہیں کہ عمران اس ہولناک خدشے کا اظہار کر کے حکومت کو خوفزدہ کرنا چاہتے ہیں یا ملک کے اصلی حکمرانوں کو ان کے غیر جانبدار رہنے کے اعلان پر کوئی پیغام دینا چاہتے ہیں۔ خانہ جنگی کی دھمکی کو عمران اگر ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا سوچ رہے ہیں تو وہ اپنی سیاسی زندگی کی سب سے بڑی حماقت کرنے جا رہے ہیں ۔ اپنی خفت کو سمیٹ کر کچھ دن کے لیے گوشہ نشین ہو جانا ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلنے سے کہیں زیادہ بہتر آپشن ہے ۔ 
عمران اور قادری کا انقلاب سٹیٹس کو کومبینہ طور پر پار ہ پارہ کرنے جارہا ہے ۔ لیکن اس ظالم و جابر سٹیٹس کو پر دیوانہ وارحملے کرتے ہوئے بھی یہ دونوں انقلابی اپنی فرزانگی کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔پاکستان میں سٹیٹس کو کا محل تین ستونوں پر کھڑا ہے ۔ ہمارے انقلابی روایتی سیاسی جماعتوں اور سول اسٹیبلشمنٹ کے ستونوں پر تو نہایت شدومد سے سنگ باری کر رہے ہیں لیکن تیسرے سب سے اہم اور سب سے طاقتور ستون ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی طرف دیکھتے ہوئے ان کی باچھیں ڈھیلی پڑ جاتی ہیں ۔ پاکستان میں اگر غربت نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں، بیروزگاری اور بدامنی کے بھوت دندنا رہے ہیں، لاقانونیت اور کرپشن زوروں پر ہے تو اس میں سیاسی جماعتیں اتنی ہی قصور وار ہیں جتنی ہماری مقدس فوج جس نے پاکستان کی ۶۸ سالہ تاریخ میں چالیس سال تک یہاں بالواسطہ یا بلاواسطہ حکومت کی ہے ۔ انقلابیوں کو جمہوری ادوار ہی انقلاب کے گل کھلانے کے لیے موزوں ترین کیوں لگتے ہیں اور آمرانہ ادوار میں یہ کون سی لسی پی کر سوئے رہتے ہیں یہ وہ معمے ہیں جنہیں حل کیا جا نا ضروری ہے۔

ستمبر 15, 2014

رینٹ اے انقلابی

حق کے خلاف باطل کی سازشی فیکٹری ازل سے چل رہی ہے اور ابد تک چلتی رہے گی ۔ یہ فیکٹری چوبیس گھنٹے اہلِ حق کو نیچا دکھانے کے لیے نت نئی سازشیں بُنتی رہتی ہے ۔اس سے برآمد ہونے والی پراڈکٹس میں نئے نئے فلیور کے جھوٹ ، نئی نئی طرز کی تہمتیں اور نت  نئے فیشن کے الزامات بالخصوص قابلِ ذکر ہیں۔یہ طاغوتی فیکٹری پچھلے کچھ دنوں سے اسلام آباد میں دھرنے دینے والوں کے خلاف جھوٹ کات رہی ہے اور طاہر القادری جیسی بزرگ ہستی کے خلاف ایسے الزامات لگا رہی ہے جن پر ایمان لانا تو دور کی بات صرف ان کو سوچنے سے بھی ایمان کھونے کا دھڑکا لگارہتا ہے ۔ طاغوت کے دو برطانوی ہر کاروں بی بی سی اور رائٹرز نے اپنی دو مختلف رپورٹس میں شیخ الاسلام کے انقلابیوں پر کرائے کے انقلابی ہونے
کے ایک ہی جیسے الزامات لگا کر ہمارے اس شک کومزید تقویت دی ہے کہ یہود و نصاریٰ پورے زور و شور سے انقلابی پاکستان کے خلاف سازشوں کے جال بن رہے ہیں۔ جیسے جیسے دھرنا طوالت پکڑ رہا ہے نئے پاکستان کے امکانات روشن سے روشن تر ہوتے جارہے ہیں اور اس روشنی سے چونکہ یہودو نصاریٰ کی آنکھیں چندھیا رہی ہیں اس لیے وہ اس طرح کی من گھڑت خبروں سے نئے پاکستان کے سورج کو طلوع ہونے سے پہلے ہی غروب کردیناچاہتے ہیں۔
قادری صاحب کے سالِ گذشتہ کے تاریخی دھرنے کے موقع پر بھی غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں پر انحصار کرنے والےبعض کج بیں حضرات کی طرف سے کچھ اسی طرح کے شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا تھا کہ قادری صاحب کے غیر معمولی ڈسپلنڈ مریدین یا تو ان کے منہاج سکول نیٹ ورک کے ملازم ہیں یا پھر کرائے پر لائے گئے بے روزگار ! لیکن اُس وقت بھی ایسی افواہوں کی قادری صاحب نے سختی سے تردید کر کے ان کے سر کچل دیے تھے اور اِس سال بھی قادری صاحب بی بی سی اور رائٹرز کی پھیلائی گئی افواہ نما خبروں کا قلع قمع کرنے کے لیے پوری طرح مستعد ہیں ۔ ہم نے سازش کا سرا تو ڈھونڈ لیا ہے لیکن اس سازش کے پس پردہ محرکات تک پہنچنا نہ صرف نئے اور انقلابی پاکستان بلکہ پرانی امتِ مسلمہ کی فلاح و بہبود کے لیے بھی اشد ضروری ہے ۔ اس بات کا کھوج لگانا کہ بی بی سی اور رائٹرز انقلاب سے اس قدر خوفزدہ کیوں ہیں نہایت ہی اہم ہے۔

اگست 13, 2014

مارچوں کا موسم اور مشرف کا بھوت

تیسری دنیا میں بسنے والی انسان نما مخلوق کے بہت سے مشترکہ دکھوں میں سے ایک دکھ یہ بھی ہے کہ یہاں آمر اقتدار سے دھتکارے جانے کے باوجود طاقت ور رہتے ہیں اور عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے کے باوجودسوکھے پتوں کی طرح لرزتے رہتے ہیں۔ مشرف کو اقتدار کے کوچے سے بے آبرو ہو کر نکلے چھ سال ہونے کو آئے ہیں لیکن ہماری سیاسی جماعتوں کی ساری کوششوں کا محور آج بھی مشرف کو بچانا یا اسے لٹکانا ہے۔ نواز شریف بھاری اکثریت لے کر حکومت میں آئے لیکن صرف ایک سال بعد ہی ان کی حکومت پر کپکپی طاری ہے ۔ انقلابوں اور آزادی مارچوں میں گھری ہوئی پاکستان کی ناتواں جمہوریت ایک دفعہ پھر کسی متوقع گینگ ریپ کا شکار ہونے کے خیال سے لرزہ بر اندام ہے اور تیسری دنیا کی انسان نما مخلوق زندہ باد ،مردہ باد ،آوے ہی آوے اور جاوے ہی جاوے کے نعرے لگانے میں حسب معمول مست ہے۔
اس امر کو سمجھنے کے لیے افلاطون ہونے کی ضرورت نہیں ہے کہ طاہر القادری صاحب کے انقلابی اور عمران خان کے آزادی مارچ نے پاکستان میں جس سیاسی عدم استحکام کو جنم دیا ہے اس کا فائدہ ان انقلابیوں کو ہو نہ ہو سابقہ آمر پرویز مشرف کوضرور ہوگا۔ بہت سے ذہنوں میں اس سوال نے جنم لینا شروع کر دیا ہے کہ کہیں آزادی مارچ مشرف کو آزادی کا پروانہ تھموانے کے لیے تو نہیں رچایا جا رہا؟ کہیں انقلاب کی ساری تان اس انتشار پر تو نہیں ٹوٹے گی جس کا فائدہ اٹھا کر مشرف سارے گناہوں سے دھل دھلا کر پردیس سدھار جائے گا؟ کہیں وہ جن کے ہاتھ میں اصل اقتدار کی لاٹھی ہے اپنے پیٹی بھائی کو بچانے کے لیے انقلابیوں اور نئے پاکستان والوں کو اپنی کئی دہائیوں سے آزمودہ ٹکٹکی پر تو نہیں نچا رہے ؟ سوالوں کا اژدحام ہے اور عام پاکستانی حیران ہیں کہ کس پر ایمان لائے اور کس سے برا ء ت کا اظہار کرے ؟

جولائی 10, 2014

جمہوریت کی کھیر

ایوبی آمریت کی کوکھ میں آنکھ کھولنے والی پیپلز پارٹی نے ۵ جولائی کو ضیائی آمریت کے خلاف یومِ سیاہ منایا ۔ ضیائی آمریت کی گود میں پلنے والی مسلم لیگ نون ۱۲ اکتوبر کو پرویزی آمریت کے خلاف یوم اجتجاج منائے گی ۔ دونوں جماعتیں جمہوریت پر کامل ایمان رکھتی ہیں، دونوں آمریت سے کامل نفرت کرتی ہیں لیکن دونوں کی نفرتوں کے محور مختلف ہیں ۔ دونوں کے اپنے اپنے بھگوان ہیں جن کی یہ اعلانیہ یا خفیہ پوجا کرتی ہیں اور دونوں کے اپنے اپنے شیطان ہیں جنہیں یہ اپنے اپنے دنوں میں پتھر مارتی ہیں ۔پیپلز پارٹی کو ضیا الحق کی آمریت سے اس لیے نفرت ہے کہ اس نے اس سے اقتدار چھین کر ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کے پھندے پر لٹکا یا۔پرویز مشرف کی آمریت سے پیپلز پارٹی کو کچھ خاص گلہ نہیں اس لیے ۱۲ اکتوبر کو یہ یومِ سیاہ نہیں منائے گی ۔ نون لیگ کو پرویز مشرف کی آمریت سے نفرت اس لییہے کہ اس نے نون لیگ کے بھاری مینڈیٹ کو اپنے بوٹوں تلے روند ا اور اس جماعت کے لیڈروں کو نو سال تک رگید تا رہا۔ ضیا الحق کی آمریت سے نون لیگ کو کوئی شکوہ نہیں اس لیے یہ ۵ جولائی کو یومِ سیاہ نہیں مناتی۔پیپلز پارٹی کا یومِ سیاہ نون لیگ کے لیے بالکل بھی سیاہ نہیں جبکہ نون لیگ کا یومِ سیاہ ایم کیو ایم اور ق لیگ کے لیے سنہرا دن ہے۔

اکتوبر 07, 2013

Is Media spreading hopelessness?



Media can play havoc with the mind of a naïve user! The curious case of Syed Hassan Rizvi’s suicide strengthens this assumption more than any other thing! YouTube page of this young man of 24, who committed suicide together with his nephew and sister-in-law two days ago in Gujranwala, reveals his obsession with death and horrible impact of media on his credulous mind. On the night before the fateful day he uploaded his confession in a 12 minute self recorded video titled “Gunahon se nijat” (salvation from sins). He counts disrespectful way of addressing Allah’s name and cruel treatment towards animals and birds as the major sins that are pushing him and his family towards this extreme step! He reverently recalls his brother who showed him this ‘enlightened’ path of salvation. His brother was found dead a month ago in mysterious circumstances. Probably he had also committed suicide to get rid of his sins!

اگست 01, 2012

چار شیطان


یہ بات ہضم کرنا کچھ لوگوں کے لیے شاید آسان نہ ہو کہ پاکستان کے شرمناک زوال کابنیادی سبب چار شیطان ہیں! روزِ اول سے پاکستان کے درودیوار پران   چا رمکروہ شیطانوں کا سایہ ہے ۔ان کا بھیانک آسیبی اثر اس مظلوم دیس کی رگوں سے زندگی کے رس کو قطرہ قطرہ چوس رہا ہے اور ہم بے حسی و بے بسی کی تصویر بنے اس شیطانی کھیل کو گھناؤنا تر ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔بظاہر اب یہ حسرتِ نا آسودہ ہی لگتی ہے کہ اس دیس کی پاک فضائیں ان چار شیطانوں کی نجاست سے کبھی پاک ہو پائیں ! مستقبل قریب میں ایسا ہونااس لیے ممکن نظر نہیں آتا کہ یہ شیطان مکرو فریب کے وہ جال پھیلائے بیٹھے ہیں جن سے بچ کر نکلنا اس سادہ لوح مٹی کے باسیوں کے لیے شاید ممکن نہ ہو۔بحرحال ان شیطانوں کا جاننا اس لیے ضروری ہے کہ شاید کبھی ہمیں کوئی ایسا ’کامل عامل‘ مل جائے جو ان کے پرفریب جال چاک کر کے اس سرزمین کو اصلی آزادی کی لذت سے روشناس کر سکے۔

فروری 13, 2010

سارا فساد میڈیا کا ہے

حالات کی بلاکم و کاست ٹھیک ٹھیک تصویر کشی کرنامیڈیاکا بنیادی فرض ہے جس کو پورا کرنے میں بدقسمتی سے ہمارا میڈیا بری طرح ناکام رہا ہے۔ اس ناکامی کا ایک مظاہرہ اگلے دن اس وقت سامنے آیا جب میڈیا نے ہماری عوامی حکومت کے خلاف نہایت شر انگیز انداز میں یہ رپورٹ سامنے لائی کہ زندگی پچھلے دو سالوں میں عام آدمی کے لیے پچاس فیصد مہنگی ہو گئی ہے ۔