رویت ہلال حسبِ روایت اس سال بھی اسلام کے قلعے میں متنازع رہا ۔ پشاور کی
مسجد قاسم خان میں بیٹھے مفتی شہاب الدین پاپولزئی کو چاند نظر آ گیا
کراچی میں بیٹھے مفتی منیب الر حمن اس سعادت سے محروم رہے ۔ فرقہ واریت
ہمارے خون میں یوں رچ بس گئی ہے کہ ہم چاہیں بھی تو اس سے دامن نہیں بچا
سکتے۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چئیر مین کو خیبر پختونخواہ سے ملنے والی
شہادتیں قبول نہیں کہ ان شہادتوں کا فرقہ مختلف ہے ۔ مفتی پاپولزئی سرکاری
کمیٹی کو اس لیے ماننے کے لیے تیار نہیں کہ اس کاتعلق ایک دوسرے فرقے سے
ہے۔ ہر فرقے کو دوسرے فر قے کی شہادتیں ہضم نہیں ہوتیں۔ ہٹ دھرمی کو اگر
مجسم صورت میں دیکھنا مقصود ہو تو پاکستانی فرقہ پرستوں سے بہتر کوئی اور
مثال نہیں۔
نیا پاکستان عظیم تر پاکستان
سنی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
سنی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
جولائی 02, 2014
اگست 11, 2013
بے انت مرثیہ
اقبال کے خیال میں دین سیاست سے جدا ہوتوصرف چنگیزیت رہ جاتی ہے لیکن ذاتی مفادات کے حصول کے لیے مذہب کا سیاست میں استعمال جس بھیانک چنگیزیت کو جنم دے سکتا ہے اس کا تصور شاید اقبال نہ کر سکے۔ شام کی سر زمین سیاست میں مذہبی جنون کے استعمال کی نہایت ہی ہولناک مثال بن کر ہمارے سامنے آ رہی ہے۔ بشار الاسد کی آمریت کے خلاف جب جنوری 2011 میں اجتجاج شروع ہو ا تو یہ عرب دنیا میں اٹھنے والی اپنے حکمرانوں سے نفرت اور بیزاری کی اسی لہر کا تسلسل تھا جو اس سے پہلے تیونس ، یمن، الجیریا اور مراکش کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی اور آہستہ آہستہ مصر اور لیبیا کی طرف بڑھ رہی تھی ۔ لیکن دوسرے ممالک کے برعکس بشار الاسد نے اس اجتجاج سے نپٹنے اور اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے جو طریقہ اختیارکیا اس نے شام کو ایک خون ریز خانہ جنگی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔دنیا بھر کے آمروں کو ملک کی سلامتی ،قانون کی سر بلندی اور لوگوں کی جان و مال اور عزت و آبرو سے بڑھ کر اپنا اقتدار عزیز ہوتا ہے یہ جب ڈوبنے لگتے ہیں تو اپنے ساتھ اپنے ملک کے امن اور سلامتی کو بھی ڈبونے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ آنے والوں کے لیے حکومت کرنا ناممکن ہو جائے ۔بشارالاسد نے بھی اسی راستے کا انتخاب کیا۔
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)