نیا پاکستان عظیم تر پاکستان

نیا پاکستان عظیم تر پاکستان
انتخابی دھاندلی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
انتخابی دھاندلی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اگست 22, 2014

دھاندلی کے بارے میں کچھ تہلکہ خیز انکشافات

پاکستان معجزات کی سر زمین ہے ۔یہاں انہونیاں کثرت سے وقو ع پذیر ہوتی ہیں، ناممکنات پل جھپکنے میں ممکن ہو جاتے ہیں اور محیر العقول عناصر پل پل تقدیریں بدلتے دکھائی دیتے ہیں ۔پاکستان کے موجودہ سیاسی بحران کی جڑوں میں بھی کچھ ایسے پراسرار عناصر کا عمل دخل ہے جن سے پردہ اٹھا نا اب ناگزیر ہو گیا ہے ۔ ہوشربا انکشافات پر مشتمل یہ سطریں پڑھتے ہوئے یقیناًآپ کے رونگٹے کھڑے ہوں جائیں گے اور آپ بے یقینی کے تالاب میں غوطے کھاتے ہوئے بار بار یہ سوال کریں گے کہ کیا اکیسویں صدی میں بھی ایسا ہو سکتا ہے ، کیا انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی ایسے ساحر موجود ہیں جو الٹے کو سیدھا اور سیدھے کو الٹا کر
دیں جو مجنوں کو لیلیٰ اور لیلیٰ کو مجنوں بنا دیں، کیا سائنسی ایجادات کی بھرمار کے باوجود انسان ابھی تک پراسرار طاقتوں کے ہاتھوں میں محض ایک کھلونا ہے ؟ یہ اور اس طرح کے بے شمار سوالات بے یقینی کے ناگ بن کرآپ کے دل میں وسوسے ڈالنے کی کوشش کریں گے اور آپ کو ان سطروں کو محض ٹھٹھہ یا مذاق سمجھ کر نظر انداز کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کریں گے لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پورا مضمون پڑھنے کے بعد آپ بھی میری طرح نہ صرف پر اسرار طاقتوں کے قائل ہو جائیں گے بلکہ ہو سکتا ہے میری ہی طرح آپ بھی ان کے حصول کے لیے سر پٹ دوڑ لگا دیں۔
اس قصے کی ابتدا میری ایک زرد پوش بزرگ سے ملاقات سے ہوئی جن کے چہرے سے جلا ل ٹپک ٹپک ان کی ریش مبارک کو تر کر رہا تھا۔ ان کی سرخی مائل ہلالی آنکھوں میں ایسا رعب تھا کہ مارے ہیبت کے میری گھگی بندھ گئی ۔ میں نے گھگی پر بہ مشکل قابو پاکر ڈرتے ڈرتے سوال کیا : یا حضرت پاکستان کے موجودہ سیاسی بحران کا حل کیا ہے ؟ حضرت نے اس کے جواب میں جو حل بتایا وہ عمران خان کے بیان کیے گئے حل سے ملتا جلتا تھا ۔ میں نیحیران ہو کر ان کی طرف دیکھا لیکن سوال کرنے کی جرات نہ ہوئی ۔ مجھے سراپا حیرت پا کر وہ خندہ لب ہوئے اور فرمایا کہ ان کا پی ٹی آئی سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں کیوں کہ وہ مادی دنیا کے جھمیلوں میں نہیں پڑتے ہاں پی ٹی آئی کے بھنگڑے اور صوفیانہ رقص ان کے روحانی تاروں کو ضرور چھیڑتے ہیں۔ میں نے ہمت مجتمع کی اور پھر سوال کیا : یا شیخ دھاندلی کے الزامات میں کتنی صداقت ہے ؟ اس پر کچھ دیر وہ خلا میں نہایت معجوبانہ انداز سے گھورتے رہے پھر گویا ہوئے اور جلالی انداز میں محض اتنا کہا ’’دھاندلی ہوئی ہے ضرور ہوئی ہے ‘‘۔ میرے استفسار پر کہ دھاندلی کیسے ہوئی ان کے اور میرے درمیان سوال وجواب کا ایک مکالمہ شروع ہواجس کا خلاصہ میں یہاں من و عن درج کر رہا ہوں