عنوان سے کہیں یہ نہ سمجھیے کہ ہم ملک برادری کے نام اور مقام کو بلند کرنے
والی کسی فاحشہ کی آبرو باختگی کا مرثیہ کہنے لگے ہیں۔ نہ ہی ہمارا مقصد
پاکستان کے سافٹ امیج کی بیرونِ ملک زورو شور سے تشہیر کرنے والی کسی
باکمال فنکارہ کی تضحیک ہے۔ ہم دراصل اس حیرت انگیز مماثلت کا ذکر کرنا
چاہتے ہیں جو وینا ملک اور ہمارے بہت سے سیاست دانوں کے درمیان پائی جاتی
ہے اور جس کا سب سے واشگاف اظہار تازہ تازہ درآمد ہونے والے ہمارےایک انقلابی
لیڈر کے ہاں ہوا۔ فن اور سیاست جو دو متضاد دنیائیں ہیں ان کے دو کھلاڑیوں
کے درمیان اس حد تک اشتراکِ خیال نے ہمیں بھونچکا ہونے پر مجبور کر دیا ہے
اور ہم حیران ہیں کہ دل کو روئیں یا جگر کو پیٹیں۔ یہ مماثلت کیا ہے اس کا
ذکر ہم آگے چل کر کریں گے پہلے سفرِ انقلاب کی بات ہو جائے۔
نیا پاکستان عظیم تر پاکستان

فروری 17, 2013
فروری 04, 2013
روایتی جمہوریت کے کرتوت اور عمران خان
آج سےلگ بھگ پانچ سال قبل پرویزی آمریت کی بساط لپٹنے پر جن جمہوریت پسندوں کی
باچھیں کھل کر کانوں کی لوؤں کو چھو رہی تھیں اوربغلیں بجاتے جن کے ہاتھ نہ
تھکتے تھے اب جمہوریت کی برکات سے کامل پانچ سال تک لطف اندوز ہونے کے بعد
ان کی باچھیں واپس اپنی جگہہ پر آچکی ہیں اور بغلیں بھی یکسر خاموش ہیں۔اب
جبکہ پاکستانی جمہوریت کا ایک اور بیہودہ ناٹک تمام ہونے کو ہے اور
انتخابات کا پردہ اٹھنے کے بعد نئے نوٹنکیوں، نوسر بازوں، بھانڈوں اور بے
مغز کٹھ پتلوں کی ایک فوج ظفر موج سٹیج پر جمہوری اودھم مچانے کے لیے بے
تاب بیٹھی ہے تو یہ جمہوریے انگشت بدنداں ہیں کہ کہاں جائیں! مشرف جو بے
آبرو ہو کر اقتدار کے کوچے سے بھاگاتھا اس جمہوریت کی پانچ سالہ بے مثال
کارکردگی نے اس کے مردہ دہن میں بھی جان ڈال دی ہے اوروہ پٹر پٹر اپنے دور
کے کارناموں کا موجودہ دور کے ساتھ موازنہ کر کے یہ ثابت کر رہا ہے کہ اس
کے دور میں دودھ کی نہریں بہتی تھیں جو موجودہ حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ
سے گندے نالوں میں تبدل ہو چکی ہیں! پاکستانی گینزبک میں سب سے زیادہ
گالیاں کھا کے بھی بے مزہ نہ ہونے کا ریکارڈ رکھنے والا مشرف اب اس لیے
افسردہ ہے کہ اس کا یہ منفرد اعزاز موجودہ حکمرانوں نے اپنی شبانہ روز کوشش
سے اس سے چھین لیا ہے۔
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)